سنن نسائی حدیث ۱۶۵۶ - مداومت والا عمل

مداومت والا عمل نبی صلى الله عليه وسلم کو پسند تھا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۶

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قال : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ " , خَالَفَهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرَوَاهُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ .

ام سلمہ روایت:

قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے، اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر مداومت کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ عثمان بن ابی سلیمان نے ابواسحاق کی مخالفت کی ہے انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۵۶ کا خلاصہ

ام سلمہ رضی اللہ عنہا قسم کے ساتھ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے۔ پھر وہ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر مداومت کی جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ اس حدیث میں بیٹھ کر نفل نماز اور مسلسل عمل دونوں باتیں اکٹھی آئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا معیار صرف مقدار نہیں، بلکہ پابندی بھی ہے۔ انسان اگر تھوڑا سا عمل روزانہ یا پابندی کے ساتھ کرے تو یہ بے ترتیب زیادہ عمل سے بہتر انداز بن سکتا ہے۔ روایت کی حد یہی ہے کہ عمل کم ہو مگر جاری رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آخر عمر میں نبی صلى الله عليه وسلم کی بیشتر نفل نمازیں بیٹھ کر ہوئیں۔
  • فرض نماز کو روایت میں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
  • عمل پر مداومت کو پسندیدہ بتایا گیا ہے۔
  • تھوڑا عمل بھی مستقل ہو تو قابل قدر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں