سنن نسائی حدیث ۱۶۵۵ - کم مگر دائمی عمل

نبی صلى الله عليه وسلم کے نزدیک محبوب عمل: ہمیشہ کیا جانے والا عمل

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۵

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْفَرِيضَةَ ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ " .

ام سلمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی اکثر و بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔

سنن نسائی حدیث ۱۶۵۵ کا خلاصہ

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں دو باتیں واضح ہیں۔ پہلی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، مگر فرض نماز اس سے الگ رہی۔ دوسری بات یہ کہ آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ یہ حدیث عبادت میں مستقل مزاجی کا بہت آسان سبق دیتی ہے۔ نفل نماز، ذکر، تلاوت یا کوئی بھی اچھا عمل اگر تھوڑا ہو مگر پابندی سے ہو تو یہ انداز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔ حدیث ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جسمانی کمزوری کے وقت عبادت کا طریقہ آسان ہو سکتا ہے، مگر عمل کا تعلق اللہ سے قائم رہتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی اکثر نفل نمازیں آخر عمر میں بیٹھ کر ہوئیں۔
  • فرض نماز کو روایت میں الگ رکھا گیا ہے۔
  • سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔
  • کم عمل بھی اگر مسلسل ہو تو اس کی قدر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں