سنن نسائی حدیث ۱۶۵۴ - آخری عمر میں بیٹھ کر نماز
وفات سے پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بیٹھ کر نماز
سنن نسائی : ۱۶۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۵۴
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، قال : أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " , خَالَفَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ ، وَقَالَا : عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۵۴ کا خلاصہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر بیٹھ کر نماز کے موضوع پر صاف بات بتاتی ہے۔ اس میں خاص طور پر آخری عمر کا ذکر ہے، جب جسمانی حالت پہلے جیسی نہ رہی۔ حدیث میں فرض نماز کو مستثنیٰ کیا گیا ہے، اس لیے اسے نفل نماز کے باب میں سمجھنا چاہیے۔ اس روایت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کو ترک نہیں کیا، بلکہ حالت کے مطابق بیٹھ کر نماز ادا فرمائی۔ یہ بات کمزوری یا عمر کے ساتھ عبادت جاری رکھنے کا سادہ مگر مؤثر سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخر عمر میں نبی صلى الله عليه وسلم کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں۔
- فرض نماز کو اس روایت میں الگ ذکر کیا گیا ہے۔
- جسمانی حالت بدلنے پر نفل عبادت کا انداز بدل سکتا ہے۔
- عبادت کو چھوڑنے کے بجائے آسان طریقہ اختیار کیا گیا۔
