سنن نسائی حدیث ۱۶۷۹ - شروع رات میں وتر کی نصیحت
شروع رات میں وتر اور تین آسان نیک اعمال
سنن نسائی : ۱۶۷۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۷۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ , وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ , وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
ابوہریرہ روایت:
میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۷۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی دو رکعت سنت پڑھنے کی، اور ہر مہینہ تین دن روزے رکھنے کی۔ یہ روایت پچھلی روایت سے ملتی جلتی ہے، مگر یہاں چاشت کی جگہ فجر کی رکعت سنت کا ذکر آیا ہے، اور وتر کے لیے شروع رات کا لفظ آیا ہے۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت میں اسی فرق کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ “شروع رات میں وتر” اس کا اہم تلاش لفظ ہے۔ متن یہ بتاتا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ایسے اعمال کی نصیحت کی گئی جو روز مرہ اور ماہانہ معمول سے جڑے ہیں۔ حدیث میں کوئی لمبی فقہی تفصیل نہیں، بلکہ تین کاموں کی صاف نصیحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو تین باتوں کی نصیحت ہوئی۔
- شروع رات میں وتر پڑھنے کا ذکر ہے۔
- فجر کی دو سنت رکعتیں اس روایت میں شامل ہیں۔
- ہر مہینہ تین دن روزے رکھنے کی نصیحت بھی آئی ہے۔
