سنن نسائی حدیث ۱۶۸۱ - سحر کے وقت وتر اور فجر کی تیاری
سحر کے وقت وتر اور فجر کے لیے نبی صلى الله عليه وسلم کی تیاری
سنن نسائی : ۱۶۸۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۶۸۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قال : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ : " كَانَ يَنَامُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ، فَإِذَا كَانَ مِنَ السَّحَرِ أَوْتَرَ ، ثُمَّ أَتَى فِرَاشَهُ فَإِذَا كَانَ لَهُ حَاجَةٌ أَلَمَّ بِأَهْلِهِ فَإِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ وَثَبَ ، فَإِنْ كَانَ جُنُبًا أَفَاضَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَإِلَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ " .
اسود بن یزید روایت:
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے اگر سحر (صبح) ہونے کو ہوتی تو وتر پڑھتے، پھر اپنے بستر پر آتے، اور اگر آپ کو خواہش ہوتی تو اپنی بیوی کے پاس آتے، پھر جب اذان سنتے تو جھٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے، اگر جنبی ہوتے تو (اپنے اوپر پانی ڈالتے) یعنی غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے پھر نماز کو چلے جاتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۶۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسود بن یزید نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم شروع رات میں سو جاتے، پھر اٹھتے، اور جب سحر کا وقت قریب ہوتا تو وتر پڑھتے۔ پھر اپنے بستر پر آتے۔ اگر حاجت ہوتی تو اپنی اہلیہ کے پاس آتے۔ پھر جب اذان سنتے تو فوراً اٹھتے۔ اگر جنبی ہوتے تو غسل فرماتے، ورنہ وضو کرتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔ اس روایت کا موضوع سحر کے وقت وتر اور فجر کی تیاری ہے۔ “سحر میں وتر” اور “فجر سے پہلے وتر” اس حدیث کے اہم تلاش کے الفاظ ہیں۔ متن میں نبی صلى الله عليه وسلم کے معمول کا ایک حصہ بیان ہوا ہے: شروع رات کا آرام، پھر قیام، پھر وتر، پھر اذان کے بعد پاکی حاصل کر کے نماز کے لیے جانا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم شروع رات میں آرام فرماتے، پھر قیام کرتے۔
- سحر کے قریب وتر پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
- اذان سن کر آپ جلدی اٹھتے تھے۔
- حالت کے مطابق غسل یا وضو کر کے نماز کے لیے جاتے تھے۔
