سنن نسائی حدیث ۱۷۲۸ - تیرہ سے نو رکعت وتر
تیرہ رکعت وتر اور کمزوری کے بعد نو رکعت
سنن نسائی : ۱۷۲۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۲۸
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور ضعیف ہو گئے تو نو رکعت پڑھنے لگے۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وتر نماز کے بارے میں بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ صلى الله عليه وسلم بوڑھے اور کمزور ہو گئے تو نو رکعت پڑھنے لگے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع وتر کی رکعات ہے۔ اس میں یہ بات صاف آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل میں عمر اور کمزوری کے بعد رکعات کی تعداد کم ہوئی۔ حدیث میں تفصیل نہیں دی گئی کہ یہ رکعات کس ترتیب سے ادا کی گئیں، اس لیے بات کو متن تک محدود رکھنا چاہیے۔ یہ روایت وتر نماز، قیام اللیل، تیرہ رکعت وتر اور نو رکعت وتر کے بارے میں اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے۔
- بڑھاپے اور کمزوری کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے نو رکعت پڑھیں۔
- عبادت میں جسمانی حالت کا لحاظ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔
- ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کی رات کی نماز کا عمل نقل کیا۔
