سنن نسائی حدیث ۱۷۲۳ - نو اور سات رکعت وتر
وتر کی رکعتیں: نو، سات اور بیٹھ کر دو رکعت
سنن نسائی : ۱۷۲۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۲۳
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قال : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قال : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، تو جب آپ کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وتر نماز کا مختصر مگر اہم عمل بیان کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نو رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم کمزور ہو گئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، پھر اس کے بعد دو رکعت بیٹھ کر ادا کرتے۔ یہاں وتر کی رکعات کے بارے میں ایک واضح بیان ملتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے عمل میں عمر اور جسمانی حالت کے مطابق تبدیلی آئی۔ حدیث میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ پہلے نو رکعت وتر تھے، پھر کمزوری کے بعد سات رکعت وتر ہوئے۔ اس لیے اس روایت سے وتر نماز، قیام اللیل اور بیٹھ کر نماز پڑھنے کا نبوی عمل معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم وتر نماز کا اہتمام فرماتے تھے۔
- آپ صلى الله عليه وسلم نے نو رکعت وتر بھی پڑھے اور کمزوری کے بعد سات رکعت بھی پڑھے۔
- کمزوری کی حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- رات کی نماز میں آسانی اور جسمانی حالت کا لحاظ نظر آتا ہے۔
