سنن نسائی حدیث ۱۷۳۹ - مرسل اور متصل روایت کا ذکر

وتر حدیث کی سند: مرسل اور متصل طریقہ

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۳۹

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، مُرْسَلٌ , وَقَدْ رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ .

´اس سند سے (سعید بن عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ نے` یہ حدیث مرسلاً (یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ) روایت کی ہے، لیکن اسے عطا بن سائب نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کی ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۷۳۹ کا خلاصہ

اس روایت میں اصل توجہ وتر کی سورتوں کے متن پر نہیں، بلکہ روایت کی سند کے طریقے پر ہے۔ بیان کیا گیا ہے کہ اس سند سے ابن ابزیٰ نے حدیث مرسلاً روایت کی، یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ۔ پھر یہ بھی بتایا گیا کہ عطا بن سائب نے اسے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کے واسطے سے ان کے والد عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کیا۔ عام قاری کے لیے اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ اسی وتر والی روایت کے نقل ہونے کے دو طریقوں کا ذکر کیا گیا: ایک مرسل اور ایک متصل۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع سند کی وضاحت ہے، اس لیے اس سے کوئی نیا عملی حکم نہیں لیا گیا، بلکہ روایت کے طریقے کو سمجھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اس روایت میں سند کے طریقے کی وضاحت کی گئی ہے۔
  • ایک طریقہ مرسل بیان ہوا ہے۔
  • دوسرا طریقہ عطا بن سائب کے واسطے سے متصل بیان ہوا ہے۔
  • یہ روایت متن سے زیادہ حدیث کے نقل ہونے کے انداز سے متعلق ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں