سنن نسائی حدیث ۱۷۳۸ - وتر کی مسنون قراءت
وتر میں مسنون قراءت کا مختصر بیان
سنن نسائی : ۱۷۳۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۳۸
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ,
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔
سنن نسائی حدیث ۱۷۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى»، «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے۔ روایت کا متن مختصر ہے اور اسی جگہ ختم ہوتا ہے۔ اس میں سلام کے بعد کے ذکر، آواز بلند کرنے یا کسی اور کیفیت کا ذکر نہیں۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع صرف وتر کی قراءت ہے۔ یہ روایت ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو وتر میں مسنون سورتیں، وتر نماز کی قراءت یا سورۃ اعلیٰ، کافرون اور اخلاص کے بارے میں حدیث ڈھونڈتے ہیں۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین سورتیں نبی صلى الله عليه وسلم کی وتر قراءت میں آئی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وتر میں سورۃ اعلیٰ پڑھنے کا بیان ہے۔
- وتر میں سورۃ کافرون پڑھنے کا بیان ہے۔
- وتر میں سورۃ اخلاص پڑھنے کا بیان ہے۔
- اس روایت میں صرف قراءت کا ذکر ہے، مزید تفصیل نہیں۔
