سنن نسائی حدیث ۱۷۶۴ - قیام اللیل چھوڑنے سے تنبیہ

قیام اللیل میں پابندی: شروع کر کے چھوڑ نہ دینا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۷۶۴

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ " .

عبداللہ بن عمرو روایت:

مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کی طرح مت ہو جانا، وہ رات میں قیام کرتا تھا (تہجد پڑھتا تھا)، پھر اس نے رات کا قیام چھوڑ دیا“۔

سنن نسائی حدیث ۱۷۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ فلاں کی طرح نہ ہو جانا؛ وہ رات میں قیام کرتا تھا، پھر اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا۔ یہاں اصل بات تہجد یا رات کی نماز شروع کرنے کے بعد اسے چھوڑ دینے سے بچنا ہے۔ حدیث میں کسی شخص کا نام نہیں لیا گیا، بلکہ عمل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک کام میں پابندی اچھی بات ہے، خاص طور پر جب انسان کسی عبادت کو اپنی عادت بنا لے۔ قیام اللیل، تہجد کی نماز اور رات کی عبادت کے بارے میں یہ روایت بہت سادہ نصیحت دیتی ہے: عمل شروع کرو تو اپنی طاقت کے مطابق اسے جاری رکھنے کی کوشش کرو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیام اللیل شروع کرنے کے بعد اسے بلا وجہ چھوڑ دینا پسندیدہ انداز نہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے شخص کے بجائے عمل کی اصلاح پر توجہ دلائی۔
  • نیک عمل میں اپنی طاقت کے مطابق پابندی بہتر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں