صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۲ - قیام اللیل کو چھوڑنے سے بچو
قیام اللیل میں استقامت: شروع کر کے چھوڑنے سے بچیں
صحیح بخاری : ۱۱۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۲
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ " ، وَقَالَ هِشَامٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ مِثْلَهُ ، وَتَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ .
عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی۔ اور ہشام بن عمار نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید بن ابوالعشرین نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حکم بن ثوبان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، اسی طرح پھر یہی حدیث بیان کی، ابن ابی العشرین کی طرح عمرو بن ابی سلمہ نے بھی اس کو امام اوزاعی سے روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں قیام اللیل، یعنی رات کی نماز، میں استقامت کی تعلیم ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے عبداللہ! فلاں شخص کی طرح نہ ہو جانا؛ وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا، پھر اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا۔ اس حدیث کا پیغام یہ نہیں کہ ہر شخص بہت لمبی نماز لازم کر لے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ نیکی شروع کر کے اسے بلا وجہ چھوڑ دینا اچھی بات نہیں۔ اگر انسان تہجد یا رات کی نفل نماز کا معمول بنائے تو اپنی طاقت کے مطابق بنائے، تاکہ جاری رکھ سکے۔ تھوڑا مگر پکا عمل انسان کے لیے زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔ قیام اللیل کی محبت اچھی ہے، مگر اسے ایسے انداز سے اپنانا چاہیے جو زندگی میں باقی بھی رہ سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیام اللیل شروع کرنے کے بعد اسے بلا وجہ چھوڑنے سے بچنا چاہیے۔
- نفل عمل طاقت کے مطابق رکھا جائے تاکہ جاری رہ سکے۔
- نیکی میں استقامت حدیث کا نمایاں سبق ہے۔
- دوسروں کے چھوڑے ہوئے اچھے عمل سے عبرت لینی چاہیے۔
