صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۳ - نفس اور گھر والوں کے حقوق
عبادت، آرام اور گھر والوں کے حقوق میں توازن
صحیح بخاری : ۱۱۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۳
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ , قُلْتُ : إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ ، قَالَ : فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ " .
عبداللہ بن عمرو بن عاص روایت:
مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور پھر دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں (بیداری کی وجہ سے) بیٹھ جائیں گی اور تیری جان ناتواں ہو جائے گی۔ یہ جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی بچوں کا بھی۔ اس لیے کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی بلا روزے کے بھی رہو، عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عبادت میں توازن اور حقوق کی ادائیگی ہے۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے بارے میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو خبر ملی کہ وہ رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم ایسا کرتے رہے تو تمہاری آنکھیں کمزور ہو جائیں گی اور تمہاری جان تھک جائے گی۔ پھر فرمایا کہ تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے گھر والوں کا بھی حق ہے۔ اس لیے کبھی روزہ رکھو اور کبھی چھوڑو، رات کو عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔ یہ حدیث بہت عملی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ جسم، نیند اور خاندان کے حق کو بھلا دیا جائے۔ دین میں نماز، روزہ، آرام اور اہل خانہ سب کا اپنا مقام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفس یعنی جسم اور جان کا بھی انسان پر حق ہے۔
- گھر والوں کے حقوق کو نفل عبادت کی وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- روزہ کبھی رکھنا اور کبھی چھوڑنا بھی متوازن طریقہ ہے۔
- رات کو عبادت بھی کی جائے اور نیند بھی لی جائے۔
