صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۱ - طاقت کے مطابق عبادت
طاقت کے مطابق عبادت: نفل عمل میں آسانی کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۱۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۵۱
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ هَذِهِ ؟ , قُلْتُ : فُلَانَةُ لَا تَنَامُ بِاللَّيْلِ فَذُكِرَ مِنْ صَلَاتِهَا ، فَقَالَ : مَهْ عَلَيْكُمْ مَا تُطِيقُونَ مِنَ الْأَعْمَالِ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " .
عائشہ روایت:
میرے پاس بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ یہ فلاں خاتون ہیں جو رات بھر نہیں سوتیں۔ ان کی نماز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کیا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بس تمہیں صرف اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنے کی تم میں طاقت ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (ثواب دینے سے) تھکتا ہی نہیں تم ہی عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۱۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نفل عبادت کے بارے میں بہت نرم اور عملی رہنمائی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بنو اسد کی ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم آئے تو پوچھا یہ کون ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں، یعنی ان کی نماز کا ذکر کیا گیا۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بس، تمہیں اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنی تم میں طاقت ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ثواب دینے سے نہیں تھکتا، تم خود عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت میں حد سے بڑھ کر اپنے آپ کو کمزور نہ کیا جائے۔ نفل نماز، تہجد اور دیگر نیک اعمال میں پائیداری اچھی ہے، مگر وہی عمل بہتر ہے جو طاقت کے مطابق ہو اور انسان اسے جاری رکھ سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نفل عبادت طاقت کے مطابق کرنی چاہیے۔
- رات بھر نہ سونا ہر شخص کے لیے مطلوب طریقہ نہیں بنایا گیا۔
- عمل اتنا ہو جو انسان کے لیے جاری رکھنا آسان ہو۔
- عبادت میں تھکا دینے والی شدت کے بجائے پائیداری بہتر ہے۔
