سنن نسائی حدیث ۱۸۰۵ - دن رات کی بارہ رکعتیں
دن اور رات کی بارہ رکعتیں اور جنت کی بشارت
سنن نسائی : ۱۸۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۰۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
ام حبیبہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۰۵ کا خلاصہ
اس روایت میں بات مختصر مگر بہت اثر والی ہے۔ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔ یہاں تفصیل نہیں آئی کہ کون سی رکعتیں ہیں، لیکن اصل مضمون یہی ہے کہ روزانہ بارہ رکعت نفل نماز کی بڑی فضیلت ہے۔ یہ حدیث انسان کو یہ سمجھاتی ہے کہ عبادت کا معمول صرف فرض تک محدود نہ رہے، بلکہ بندہ اپنی طاقت کے مطابق اضافی نماز بھی پڑھے۔ بارہ رکعت سنت نماز کا یہ عمل چھوٹا محسوس ہو سکتا ہے، مگر حدیث میں اس کے لیے بہت بڑی بشارت آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دن اور رات میں نفل نماز کے لیے وقت نکالنا پسندیدہ عمل ہے۔
- بارہ رکعتوں پر جنت میں گھر کی بشارت حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
- مختصر روایت بھی بڑے دینی پیغام کو واضح کر سکتی ہے۔
- نیکی کا معمول مسلسل ہو تو دل عبادت سے جڑا رہتا ہے۔
