سنن نسائی حدیث ۱۸۰۶ - فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں
رات دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعت سنتیں
سنن نسائی : ۱۸۰۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۰۶
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : " مَنْ صَلَّى فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
ام حبیبہ روایت:
جس نے رات اور دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس نے رات اور دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ اس روایت کا خاص لفظ “فرض کے علاوہ” ہے، جو بتاتا ہے کہ یہ اضافی نمازیں ہیں۔ بندہ فرض نماز ادا کرنے کے بعد بھی اللہ کے قریب ہونے کے لیے نفل یا سنت رکعتیں پڑھتا ہے۔ بارہ رکعت سنت نماز کی یہ فضیلت انسان کو روزانہ کی عبادت میں نظم دیتی ہے۔ یہ کوئی مشکل عمل نہیں، مگر اس کے لیے پابندی اور توجہ چاہیے۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے: فرض کے ساتھ نفل نماز کا حصہ بھی بنائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز کے بعد اضافی رکعتیں پڑھنا نیکی میں اضافہ ہے۔
- حدیث میں بارہ رکعتوں کے لیے جنت کے گھر کی بشارت آئی ہے۔
- نماز کا معمول دن اور رات دونوں میں بندے کو اللہ سے جوڑتا ہے۔
- عبادت میں پابندی انسان کے روزانہ عمل کو بہتر بناتی ہے۔
