سنن نسائی حدیث ۱۸۰۷ - بارہ رکعتوں کی روایت
بارہ رکعت نماز کی فضیلت اور سندی وضاحت
سنن نسائی : ۱۸۰۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۰۷
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَكِّيٍّ , وَحِبَّانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " , لَمْ يَرْفَعْهُ حُصَيْنٌ وَأَدْخَلَ بَيْنَ عَنْبَسَةَ وَبَيْنَ الْمُسَيَّبِ ذَكْوَانَ .
ام حبیبہ روایت:
جس نے دن اور رات میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ حصین نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، اور عنبسہ اور مسیب کے درمیان انہوں نے ذکوان کو داخل کر دیا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۰۷ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے بیان ہوا کہ جس نے دن اور رات میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ اس کے ساتھ روایت کے آخر میں سند سے متعلق ایک بات بھی آئی ہے کہ حصین نے اسے مرفوع نہیں کیا، اور عنبسہ اور مسیب کے درمیان ذکوان کو داخل کیا۔ اس طرح حدیث کا متن بارہ رکعت سنت نماز کی فضیلت بیان کرتا ہے، جبکہ آخری حصہ روایت کے نقل ہونے کے طریقے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عام قاری کے لیے سبق یہ ہے کہ نفل نماز کی فضیلت بھی اہم ہے، اور حدیث کی حفاظت میں سند کا خیال بھی کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضیلت روایت میں آئی ہے۔
- حدیث کے الفاظ کے ساتھ سندی تفصیل بھی اہم ہوتی ہے۔
- محدثین روایت کے نقل ہونے کے طریقے کو بھی محفوظ رکھتے تھے۔
- نفل نماز کا معمول بندے کو روزانہ عبادت کی طرف متوجہ رکھتا ہے۔
