سنن نسائی حدیث ۱۸۰۸ - ایک دن کی بارہ رکعتیں

ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضیلت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۰۸

أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَنْبَسَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهُ " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .

ابوصالح ذکوان روایت:

عنبسہ بن ابی سفیان نے مجھ سے بیان کیا کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے: جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو صالح ذکوان کے واسطے سے عنبسہ بن ابی سفیان اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت آئی ہے۔ مضمون یہ ہے کہ جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔ یہاں الفاظ مختصر ہیں، مگر اصل بات وہی ہے کہ روزانہ بارہ رکعت نفل نماز کی بڑی فضیلت ہے۔ حدیث میں “ایک دن” کا ذکر آتا ہے، اس لیے یہ عمل روزانہ کے معمول سے متعلق سمجھ میں آتا ہے۔ بارہ رکعت سنت نماز انسان کو فرض نمازوں کے ساتھ اضافی عبادت کا موقع دیتی ہے۔ اس میں بندے کی محنت کم ہے، مگر اللہ کی طرف سے بشارت بہت بڑی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضیلت حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
  • نفل نماز روزانہ کے معمول کا حصہ بن سکتی ہے۔
  • کم رکعتوں کا مستقل عمل بھی بڑی خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
  • روایت میں جنت کے گھر کی بشارت بندے کو عمل کی ترغیب دیتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں