سنن نسائی حدیث ۱۸۰۹ - فرض کے سوا بارہ رکعتیں
فرض کے سوا بارہ رکعت نماز کی فضیلت
سنن نسائی : ۱۸۰۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۰۹
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ أَوْ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
ام حبیبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا، یا اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ جس نے ایک دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا، یا اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ روایت میں “فرض کے علاوہ” کے الفاظ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ یہ رکعتیں فرض نماز نہیں بلکہ اضافی نفل یا سنت رکعتیں ہیں۔ بارہ رکعت سنت نماز کا یہ عمل روزمرہ عبادت میں آسانی سے شامل کیا جا سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام بہت صاف ہے کہ بندہ فرض ادا کرنے کے بعد اللہ کے لیے مزید نماز پڑھے، تو اللہ کے ہاں اس کے لیے بڑی امید اور بشارت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فرض نماز کے ساتھ نفل رکعتوں کی ترغیب حدیث میں دی گئی ہے۔
- بارہ رکعت پڑھنے پر جنت کے گھر کی بشارت بیان ہوئی ہے۔
- عمل کے الفاظ میں معمولی فرق روایت کے نقل ہونے کا حصہ ہو سکتا ہے۔
- روزانہ نفل نماز بندے کے دینی معمول کو بہتر بناتی ہے۔
