سنن نسائی حدیث ۱۸۱۰ - دن رات کی نماز کا انعام
دن رات کی بارہ رکعتیں: جنت کے گھر کی امید
سنن نسائی : ۱۸۱۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۰
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " .
ام حبیبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان آیا ہے کہ جس نے دن اور رات میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ حدیث میں یہ بات بہت مختصر الفاظ میں آئی ہے، مگر اس کا اثر دل پر گہرا ہوتا ہے۔ بارہ رکعت سنت نماز کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے دن کو نماز کے ساتھ آباد رکھے۔ یہ عمل فرض نمازوں کے ساتھ ایک اضافی نیکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو چھوٹے اور آسان اعمال پر بھی بڑی بشارتیں دیتا ہے، جب وہ انہیں اخلاص کے ساتھ انجام دیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دن اور رات میں نفل نماز کا اہتمام خیر کا ذریعہ ہے۔
- بارہ رکعتوں پر جنت میں گھر کی بشارت واضح طور پر آئی ہے۔
- مختصر عمل کو معمول بنانے سے عبادت میں پابندی آتی ہے۔
- اللہ اپنے بندے کو آسان نیکیوں پر بھی بڑا اجر دے سکتا ہے۔
