سنن نسائی حدیث ۱۸۱۱ - روزانہ بارہ رکعتوں کی فضیلت
روزانہ بارہ رکعتیں اور جنت میں گھر
سنن نسائی : ۱۸۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۱
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " .
ام حبیبہ روایت:
جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ یہ روایت الفاظ کے اعتبار سے بہت مختصر ہے، مگر اس میں نماز کا ایک بڑا عملی سبق ہے۔ بارہ رکعت سنت نماز انسان کو دن کے مختلف حصوں میں اللہ کی طرف پلٹنے کا موقع دیتی ہے۔ حدیث میں زیادہ تفصیل نہیں، اس لیے ہمیں اسی اصل بات پر رکنا چاہیے کہ بارہ رکعتوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ جنت میں گھر کی بشارت بندے کے دل میں امید پیدا کرتی ہے اور اسے نماز کے اضافی اعمال کی طرف رغبت دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزانہ بارہ رکعتیں پڑھنے کی فضیلت روایت میں آئی ہے۔
- نفل نماز بندے کے دن کو عبادت سے جوڑتی ہے۔
- حدیث کے مختصر الفاظ میں بھی بڑا عملی پیغام ہو سکتا ہے۔
- جنت کی بشارت نیکی پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دیتی ہے۔
