سنن نسائی حدیث ۱۸۱۲ - بارہ رکعت روایت پر تنبیہ
بارہ رکعتوں کی فضیلت اور روایت کی تحقیق
سنن نسائی : ۱۸۱۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْفَرِيضَةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا خَطَأٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ضَعِيفٌ هُوَ ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ أَوْجُهٍ سِوَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ اللَّفْظِ الَّذِي تَقَدَّمَ ذِكْرُهُ .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں فرض کے علاوہ پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، محمد بن سلیمان ضعیف ہیں، وہ اصبہانی کے بیٹے ہیں، نیز یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی ان الفاظ کے علاوہ کے ساتھ جن کا ذکر اوپر ہوا ہے روایت کی گئی ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایک دن میں فرض کے علاوہ بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ لیکن روایت کے آخر میں امام نسائی رحمہ اللہ کی اہم تنبیہ ہے کہ یہ غلط ہے، محمد بن سلیمان ضعیف ہیں، اور یہ حدیث دوسرے طریقوں سے مختلف الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے۔ اس لیے اس روایت میں دو باتیں سامنے آتی ہیں: ایک بارہ رکعت سنت نماز کی فضیلت، اور دوسری حدیث کی سند کی جانچ۔ محدثین نے صرف متن نقل نہیں کیا، بلکہ راوی کی حالت بھی بیان کی تاکہ قاری احتیاط کے ساتھ سمجھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بارہ رکعت نفل نماز کی فضیلت اس مضمون میں بیان ہوئی ہے۔
- حدیث کی سند پر محدثین کی تنبیہ کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- ضعیف راوی کا ذکر روایت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- دینی بات نقل کرتے وقت احتیاط اور تحقیق ضروری ہے۔
