سنن نسائی حدیث ۱۸۱۳ - ظہر سے پہلے اور بعد چار رکعتیں
ظہر سے پہلے اور بعد چار رکعتوں کی فضیلت
سنن نسائی : ۱۸۱۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۳
أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، قَالَ : لَمَّا نُزِلَ بِعَنْبَسَةَ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ ، فَقِيلَ لَهُ : فَقَالَ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ " , فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ .
حسان بن عطیہ روایت:
جب عنبسہ کی موت کا وقت آیا تو وہ تکلیف سے پیچ و تاب کھانے لگے تو ان سے کچھ پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: سنو! میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بیان کر رہی تھیں کہ آپ نے فرمایا ہے: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کا گوشت جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا، تو جب سے میں نے انہیں سنا ہے میں نے انہیں چھوڑا نہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عنبسہ بن ابی سفیان کے آخری وقت کا واقعہ بھی آیا ہے۔ جب ان کی حالت سخت ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی تھیں کہ جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کا گوشت جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔ پھر عنبسہ نے کہا کہ جب سے میں نے یہ رکعتیں سنی ہیں، انہیں چھوڑا نہیں۔ اس روایت کا اصل پیغام ظہر کی سنت نماز کی پابندی ہے۔ حدیث میں خاص طور پر ظہر سے پہلے چار اور بعد چار رکعتوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر سے پہلے چار اور بعد چار رکعتوں کی بڑی فضیلت آئی ہے۔
- عنبسہ نے اس حدیث کو سننے کے بعد ان رکعتوں کو نہیں چھوڑا۔
- سنی ہوئی نیکی کو عمل میں بدلنا صحابہ و تابعین کے مزاج سے معلوم ہوتا ہے۔
- جہنم سے حفاظت کی بشارت حدیث کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔
