سنن نسائی حدیث ۱۸۱۴ - ظہر کے بعد چار رکعتیں
ظہر کے بعد چار رکعتیں اور آگ سے حفاظت
سنن نسائی : ۱۸۱۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۴
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَيُّوبُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ، عَنِ الْقَاسِمِ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ حَبِيبَهَا أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهَا , قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَتَمَسُّ وَجْهَهُ النَّارُ أَبَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
عنبسہ بن ابی سفیان روایت:
میری بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ان کے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا: جو بھی مومن بندہ ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھے گا، تو جہنم کی آگ اس کے چہرے کو کبھی نہیں چھوئے گی، اگر اللہ عزوجل نے چاہا۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۴ کا خلاصہ
اس روایت میں عنبسہ بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ ان کی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ان کے محبوب ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مومن بندہ ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھے گا، تو جہنم کی آگ اس کے چہرے کو کبھی نہیں چھوئے گی، اگر اللہ عزوجل نے چاہا۔ اس حدیث میں خاص طور پر ظہر کے بعد چار رکعتوں کا ذکر ہے۔ الفاظ میں “مومن بندہ” اور “اگر اللہ نے چاہا” بھی آیا ہے، اس لیے بات کو اسی انداز میں سمجھنا چاہیے۔ اصل ترغیب یہ ہے کہ ظہر کی نماز کے بعد اضافی رکعتوں کا اہتمام کیا جائے اور اللہ سے خیر کی امید رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھنے کی خاص فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں مومن بندے کے لیے آگ سے حفاظت کی امید آئی ہے۔
- روایت کے الفاظ میں اگر اللہ نے چاہا کا ادب بھی موجود ہے۔
- فرض کے بعد نفل نماز بندے کو مزید عبادت کی طرف لے جاتی ہے۔
