سنن نسائی حدیث ۱۸۱۵ - ظہر کی آٹھ رکعتوں کی فضیلت
ظہر کی چار پہلے اور چار بعد سنتوں کی فضیلت
سنن نسائی : ۱۸۱۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۵
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ " .
ام حبیبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ یہ روایت ظہر کی سنت نماز کے بارے میں بہت واضح ہے۔ اس میں نہ عام نفل کا ذکر ہے، نہ کسی اور وقت کی نماز کا، بلکہ خاص طور پر ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد چار رکعتیں بیان ہوئی ہیں۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع ظہر کی سنتوں کی پابندی ہے۔ بندہ جب فرض نماز کے آس پاس نفل رکعتیں پڑھتا ہے تو اس کا نماز سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر سے پہلے چار اور بعد چار رکعتوں کی فضیلت حدیث میں آئی ہے۔
- اس روایت میں جہنم سے بچاؤ کی بشارت بیان ہوئی ہے۔
- ظہر کی سنتوں کی پابندی نماز کے معمول کو مضبوط بناتی ہے۔
- حدیث میں جس عمل کا ذکر ہے، اسی پر توجہ رکھنی چاہیے۔
