سنن نسائی حدیث ۱۸۱۶ - ظہر سنت اور سندی نوٹ
ظہر کی چار چار رکعتیں اور روایت کی احتیاط
سنن نسائی : ۱۸۱۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۶
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَال مَرْوَانُ : وَكَانَ سَعِيدٌ إِذَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ بِذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ ، وَإِذَا حَدَّثَنَا بِهِ هُوَ لَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَتْ : " مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَنْبَسَةَ شَيْئًا .
ام حبیبہ روایت:
´ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، مروان بن محمد کہتے ہیں: اور سعید بن عبدالعزیز پر جب پڑھا گیا کہ` ام حبیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں تو انہوں نے اس کا اقرار کیا، اور انکار نہیں کیا حالانکہ جب انہوں نے اسے ہم سے بیان کیا تو انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، وہ کہتی ہیں: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مکحول نے عنبسہ سے کچھ نہیں سنا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے یہ مضمون نقل ہوا کہ جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ ساتھ ہی روایت میں مروان بن محمد اور سعید بن عبدالعزیز سے متعلق وضاحت بھی آئی ہے کہ جب ام حبیبہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت پڑھ کر سنائی گئی تو سعید نے اقرار کیا، مگر خود بیان کرتے ہوئے اسے مرفوع نہیں کیا۔ آخر میں امام نسائی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکحول نے عنبسہ سے کچھ نہیں سنا۔ اس لیے یہاں عمل کی فضیلت بھی ہے اور حدیث کی روایت میں احتیاط بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر سے پہلے اور بعد چار رکعتوں کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث کی نسبت اور سند کے بارے میں احتیاط ضروری ہے۔
- محدثین راویوں کے سماع اور ملاقات کا بھی خیال رکھتے تھے۔
- عملی سبق یہی ہے کہ ظہر کی سنتوں کا اہتمام کیا جائے۔
