سنن نسائی حدیث ۱۸۱۹ - موت کی تمنا سے ممانعت
موت کی تمنا نہ کرو: نیکی اور توبہ کا موقع
سنن نسائی : ۱۸۱۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۱۹
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمُ الْمَوْتَ إِمَّا مُحْسِنًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَزْدَادَ خَيْرًا , وَإِمَّا مُسِيئًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَعْتِبَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی (بھی) ہرگز موت کی آرزو و تمنا نہ کرے، (کیونکہ) یا تو وہ نیک ہو گا تو ہو سکتا ہے زیادہ نیکی کرے، یا برا ہو گا تو ہو سکتا ہے وہ برائی سے توبہ کر لے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے۔ پھر وجہ بھی بتائی گئی کہ اگر وہ نیک ہے تو شاید مزید نیکی کر لے، اور اگر برا ہے تو شاید برائی سے توبہ کر لے۔ یہ حدیث بہت نرم مگر واضح انداز میں زندگی کی قدر سکھاتی ہے۔ انسان کبھی دکھ، تھکن یا حالات کی سختی میں موت کی تمنا کر بیٹھتا ہے، مگر اس روایت میں ہمیں اپنی زندگی کو نیکی اور توبہ کے موقع کے طور پر دیکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ موت کی تمنا کے بجائے بندہ اپنے حال کی اصلاح کرے اور اللہ کی طرف رجوع کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسلمان کو موت کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔
- نیک انسان کے لیے زندگی مزید نیکی کا موقع بن سکتی ہے۔
- گناہ گار کے لیے زندگی توبہ اور اصلاح کا موقع ہو سکتی ہے۔
- مشکل حالت میں بھی امید اور رجوع الی اللہ کا راستہ باقی رہتا ہے۔
