سنن نسائی حدیث ۱۸۴۶ - احد کے شہید پر فرشتوں کا سایہ
احد کے شہید پر فرشتوں کے پروں کا سایہ
سنن نسائی : ۱۸۴۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۴۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ , قَالَ : فَجَعَلْتُ أَكْشِفُ عَنْ وَجْهِهِ وَأَبْكِي وَالنَّاسُ يَنْهَوْنِي , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَنْهَانِي ، وَجَعَلَتْ عَمَّتِي تَبْكِيهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَبْكِيهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ " .
جابر بن عبداللہ بن حرام روایت:
´جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کر دیئے گئے، میں ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانے اور رونے لگا، لوگ مجھے روک رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روک رہے تھے، میری پھوپھی (بھی) ان پر رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان پر مت روؤ، فرشتے ان پر برابر اپنے پروں سے سایہ کیے رہے یہاں تک کہ تم لوگوں نے اٹھایا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ان کے والد غزوہ احد کے دن شہید کیے گئے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ ان کے چہرے سے کپڑا ہٹاتے اور روتے تھے۔ لوگ انہیں روک رہے تھے، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم انہیں نہیں روک رہے تھے۔ ان کی پھوپھی بھی رونے لگیں تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ان پر مت روؤ، فرشتے برابر اپنے پروں سے ان پر سایہ کیے رہے، یہاں تک کہ تم لوگوں نے انہیں اٹھایا۔ اس روایت میں شہید کی فضیلت، فرشتوں کا سایہ اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا نرم انداز نمایاں ہے۔ یہاں غم موجود ہے، مگر ساتھ ہی شہادت کی عزت اور اللہ کی طرف سے خاص اکرام کی خبر بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شہید کے لیے اللہ کے ہاں خاص عزت کا ذکر آیا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کو رونے پر نہیں ڈانٹا۔
- غم کے وقت تسلی دینا سنت کا خوبصورت انداز ہے۔
- فرشتوں کا سایہ شہید کے بلند مقام کی نشانی ہے۔
