سنن نسائی حدیث ۱۸۶۱ - جاہلیت کے نوحہ سے سخت منع

جاہلیت کے انداز کا نوحہ ممنوع ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۶۱

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنِ الْأَعْمَشِ . ح أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ , وَشَقَّ الْجُيُوبَ , وَدَعَا بِدُعَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ " وَاللَّفْظُ لِعَلِيٍّ ، وَقَالَ الْحَسَنُ بِدَعْوَى .

عبداللہ بن مسعود روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے (یعنی نوحہ کرے)“۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے اور جاہلیت کی پکار پکارے۔ یہ حدیث نوحہ کے ممنوع انداز کو بہت واضح کر دیتی ہے۔ یہاں عام غم یا آنسو کی بات نہیں، بلکہ ایسے کاموں کی بات ہے جو بے صبری، ماتمی رسم اور جاہلیت کے طریقے کو ظاہر کرتے ہیں۔ منہ پیٹنا، کپڑے پھاڑنا اور ایسے الفاظ کہنا جو اللہ کے فیصلے پر ناراضی یا جاہلی پکار بن جائیں، مسلمان کے وقار کے خلاف ہیں۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ موت کا غم آئے تو دل دکھے، آنکھ روئے، مگر زبان اور جسم کو ایسے عمل سے بچایا جائے جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تعلیم کے خلاف ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • منہ پیٹنا اور گریباں پھاڑنا جاہلیت کا انداز ہے۔
  • غم کے وقت زبان اور جسم دونوں کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • اسلام صبر، وقار اور اللہ کے فیصلے پر رضا سکھاتا ہے۔
  • فطری آنسو الگ ہیں، جاہلی نوحہ الگ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں