سنن نسائی حدیث ۱۸۵۲ - نوحہ نہ کرنے کی وصیت

نوحہ نہ کرنے کی وصیت

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ ، قَالَ : " لَا تَنُوحُوا عَلَيَّ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ " مُخْتَصَرٌ .

قیس بن عاصم روایت:

تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کا مختصر مگر بہت واضح قول نقل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ روایت لمبی حدیث سے مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے کہ میت پر جاہلیت کے انداز کا نوحہ درست نہیں۔ قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے وہی پسند کیا جو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بارے میں ہوا۔ اس میں سنت کی پیروی، سادگی اور وفات کے موقع پر ادب کا درس ہے۔ نوحہ سے مراد وہ ماتمی انداز ہے جس میں چیخنا، پکارنا اور بے صبری والی باتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس حدیث میں اہل خانہ کو پہلے سے نصیحت کرنے کا بھی اشارہ ملتا ہے کہ وفات کے بعد غلط رسموں سے بچا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میت پر نوحہ نہ کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے طریقے کو معیار بنانا چاہیے۔
  • وفات کے موقع پر جاہلی ماتم سے بچنا چاہیے۔
  • غم میں بھی سنت اور ادب کو مقدم رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں