سنن نسائی حدیث ۱۸۵۱ - اہل خانہ کے رونے پر تنبیہ
اہل خانہ کے رونے سے متعلق حدیث
سنن نسائی : ۱۸۵۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵۱
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ عُمَرُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُعَذَّبُ الْمَيِّتُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اس کا تعلق جنازہ، غم اور میت کے آداب سے ہے۔ اس میں گھر والوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ موت کے بعد جذبات میں ایسا انداز نہ اختیار کیا جائے جو اللہ کی رضا کے خلاف ہو۔ علمائے کرام کے مطابق اس مضمون کو نوحہ، چیخنا چلانا، گریہ و زاری کی ایسی شکلیں اور جاہلیت کے ماتمی طریقوں کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔ فطری غم اور آنسو کا ذکر الگ روایات میں موجود ہے۔ اس لیے اس حدیث سے احتیاط، صبر اور نوحہ سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کے گھر والوں کو غم کے وقت سنبھل کر رہنا چاہیے۔
- رونے کو نوحہ اور جاہلی ماتم میں بدلنے سے بچنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تنبیہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- جنازہ اور وفات کے موقع پر صبر اہم عمل ہے۔
