سنن نسائی حدیث ۱۸۴۹ - میت پر رونے کا معاملہ
میت پر رونے سے متعلق سخت تنبیہ
سنن نسائی : ۱۸۴۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۴۹
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " .
عمر روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ متن مختصر ہے، مگر پیغام بہت سنجیدہ ہے۔ اس میں میت کے بعد گھر والوں کے رونے کے معاملے کو معمولی نہیں بتایا گیا۔ علمائے کرام کے مطابق اس موضوع کو دوسری روایات کے ساتھ سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر نوحہ، چیخ پکار اور جاہلیت والے انداز کے رونے سے بچنے کی تاکید کے طور پر۔ اسی باب کی دوسری روایات میں فطری آنسو اور دل کے غم کا بھی ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث سے اصل سبق یہ ہے کہ موت کے وقت زبان، آواز اور عمل میں احتیاط رکھی جائے، تاکہ غم عبادت اور صبر کے دائرے سے باہر نہ نکلے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میت کے بعد گھر والوں کو اپنے رونے کے انداز میں احتیاط کرنی چاہیے۔
- غم کو چیخ پکار اور نوحہ کی شکل نہیں دینی چاہیے۔
- موت کے وقت صبر اور سنبھلی ہوئی بات بہتر ہے۔
- اس حدیث کا مضمون دوسری روایات کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
