سنن نسائی حدیث ۱۸۴۸ - نوحہ سے روکنے کا حکم
نوحہ اور بے قابو رونے سے روکنے کی ہدایت
سنن نسائی : ۱۸۴۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۴۸
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : قَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا أَتَى نَعْيُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صِئْرِ الْبَابِ ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ يَبْكِينَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقْ فَانْهَهُنَّ " فَانْطَلَقَ ، ثُمَّ جَاءَ , فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْتَهِينَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقْ فَانْهَهُنَّ " فَانْطَلَقَ ، ثُمَّ جَاءَ , فَقَالَ : قَدْ نَهَيْتُهُنَّ فَأَبَيْنَ أَنْ يَنْتَهِينَ , قَالَ : " فَانْطَلِقْ فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ " , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَ الْأَبْعَدِ إِنَّكَ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ .
عائشہ روایت:
جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ (رضی اللہ عنہم) کے مرنے کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے (اور) آپ (کے چہرے) پر حزن و ملال نمایاں تھا، میں دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی (اتنے میں) ایک شخص آیا اور کہنے لگا: جعفر (کے گھر) کی عورتیں رو رہی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”جاؤ انہیں منع کرو“، چنانچہ وہ گیا (اور) پھر (لوٹ کر) آیا اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا (لیکن) وہ نہیں مانیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں منع کرو“ (پھر) وہ گیا (اور پھر لوٹ کر آیا، اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا (لیکن) وہ نہیں مان رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو“، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے، تو اللہ کی قسم! نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرنا چھوڑ رہا ہے، اور نہ تو یہی کر سکتا ہے (کہ انہیں سختی سے روک دے)۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی وفات کی خبر آنے کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے چہرے پر غم ظاہر تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھیں۔ ایک شخص نے آ کر بتایا کہ جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتیں رو رہی ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے حکم دیا کہ جا کر انہیں منع کرو۔ وہ گیا، پھر واپس آ کر کہنے لگا کہ وہ نہیں مان رہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ منع کرنے کو کہا، پھر جب وہ نہ رکیں تو سخت انداز میں کہا کہ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ غم فطری ہے، مگر نوحہ اور بے قابو ماتم سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چہرے پر غم ظاہر تھا، یعنی غم فطری ہے۔
- میت پر بے قابو رونے اور نوحہ سے منع کیا گیا۔
- نصیحت بار بار نرمی سے کی جا سکتی ہے۔
- غم کے وقت شرعی حد کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
