سنن نسائی حدیث ۱۸۵۰ - زندوں کے رونے کا اثر

زندوں کے رونے سے متعلق نبوی فرمان

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵۰

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، يَقُولُ : ذُكِرَ عِنْدَ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ " , فَقَالَ عِمْرَانُ : قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

محمد بن سیرین روایت:

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۵۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس یہ بات ذکر ہوئی کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمائی ہے۔ اس روایت میں اصل زور اس بات پر ہے کہ صحابی نے اس قول کو اپنی رائے نہیں بنایا، بلکہ اسے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی طرف منسوب کیا۔ موضوع بہت حساس ہے، کیونکہ موت کے وقت گھر والے غمگین ہوتے ہیں۔ علمائے کرام کے مطابق اس طرح کی روایات کو نوحہ، چیخ پکار اور جاہلیت کے انداز والے ماتم کے باب میں سمجھا جاتا ہے، جبکہ فطری آنسو دوسری روایات میں موجود ہیں۔ اس حدیث سے غم کے آداب اور زبان و عمل کی حفاظت کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات کو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی نسبت کے ساتھ احتیاط سے بیان کرنا چاہیے۔
  • میت کے بعد زندوں کے رونے کا انداز اہم ہے۔
  • نوحہ اور بے قابو ماتم سے بچنے کی طرف توجہ ملتی ہے۔
  • غم کے وقت بھی شرعی ادب کا خیال رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں