سنن نسائی حدیث ۱۸۵۵ - نوحہ پر نبوی فرمان کی تصدیق
میت پر نوحہ اور صحابی کا جواب
سنن نسائی : ۱۸۵۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵۵
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ هُوَ ابْنُ زَاذَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ " , فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ بِخُرَاسَانَ وَنَاحَ أَهْلُهُ عَلَيْهِ هَاهُنَا , أَكَانَ يُعَذَّبُ بِنِيَاحَةِ أَهْلِهِ ؟ قَالَ : صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَبْتَ أَنْتَ .
عمران بن حصین روایت:
´عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` انہوں نے کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا: مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، (یہ بات عقل میں آنے والی نہیں)؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، اور تو جھوٹا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ ایک شخص نے سوال کے انداز میں اعتراض کیا کہ اگر کوئی آدمی خراسان میں مرے اور اس کے گھر والے یہاں نوحہ کریں تو کیا اسے عذاب دیا جائے گا؟ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سچ فرمایا اور تو جھوٹا ہے۔ اس روایت میں ایک صحابی کا نبوی فرمان پر مضبوط اعتماد نظر آتا ہے۔ موضوع نوحہ کا ہے، یعنی موت کے بعد ایسا ماتمی رونا جو شریعت کی حد سے باہر ہو۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عقل سے سوال آ سکتا ہے، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی بات کے سامنے ادب اور تسلیم ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نوحہ کے معاملے کو صحابہ نے سنجیدگی سے لیا۔
- نبوی فرمان کے سامنے ادب اور تسلیم ضروری ہے۔
- میت کے بعد جاہلی ماتم سے بچنا چاہیے۔
- دینی بات پر اعتراض کے بجائے سمجھنے کی نیت ہونی چاہیے۔
