سنن نسائی حدیث ۱۸۵۴ - نوحہ اور عذاب قبر
نوحہ کی وجہ سے عذاب قبر کی تنبیہ
سنن نسائی : ۱۸۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵۴
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِالنِّيَاحَةِ عَلَيْهِ " .
عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ یہاں لفظ نوحہ آیا ہے، اس لیے مضمون اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ نوحہ عام غم یا خاموش آنسو نہیں، بلکہ ایسا ماتمی انداز ہے جس میں چیخ پکار، بے صبری اور جاہلیت والی پکار شامل ہوتی ہے۔ حدیث کا مقصد گھر والوں کو ڈرانا نہیں بلکہ سنبھالنا ہے کہ موت کے موقع پر ایسا عمل نہ کریں جو شرعی حد سے باہر ہو۔ قبر، میت اور اہل خانہ کے معاملے میں احتیاط بہت ضروری ہے۔ یہ روایت نوحہ سے منع، صبر کی تلقین اور وفات کے آداب کو مضبوط انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نوحہ ایک سنجیدہ اور خطرناک عمل کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- میت کے بعد گھر والوں کو صبر سے کام لینا چاہیے۔
- قبر کے معاملے میں بے احتیاط بات یا عمل سے بچنا چاہیے۔
- غم کو جاہلیت کی پکار میں بدلنا درست نہیں۔
