سنن نسائی حدیث ۱۸۷ - دودھ پینے کے بعد کلی
دودھ پینے کے بعد کلی کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۸۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۷
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " شَرِبَ لَبَنًا ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَتَمَضْمَضَ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ لَهُ دَسَمًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا، پھر پانی مانگا اور کلی کی، پھر فرمایا: ”اس میں چکنائی ہوتی ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور کلی کی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔ یہ روایت بہت سادہ مگر روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ لوگ اسے دودھ پینے کے بعد کلی، کھانے پینے کے بعد صفائی، اور نماز سے پہلے منہ صاف کرنے کے حوالے سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث میں وضو کا حکم نہیں آیا، بلکہ خاص طور پر کلی کا ذکر ہے۔ اس لیے اس روایت کو اسی انداز میں سمجھنا چاہیے کہ دودھ کے بعد منہ میں چکنائی رہ سکتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دودھ پینے کے بعد کلی کرنا صفائی کے قریب ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے وجہ بھی بتائی کہ دودھ میں چکنائی ہوتی ہے۔
- روزمرہ کھانے پینے میں منہ کی صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
- حدیث میں جہاں کلی کا ذکر ہو، اسے وضو کے حکم سے الگ سمجھنا چاہیے۔
