سنن نسائی حدیث ۱۸۲ - گوشت کھا کر وضو نہ کرنا
گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۸۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۲
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفًا ، فَجَاءَهُ بِلَالٌ ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .
ام سلمہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بکری کی) دست کھائی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نماز کے لیے نکلے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کی دست کھائی۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ آئے، تو آپ نماز کے لیے تشریف لے گئے اور پانی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اس روایت میں خاص بات یہ ہے کہ کھانے کے بعد نماز کے لیے اٹھنے کا عمل ذکر ہوا، مگر وضو دوبارہ نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے یہ حدیث گوشت کھانے کے بعد وضو نہ کرنے کے باب میں اہم ہے۔ یہاں کسی لمبی بحث کے بجائے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اس سے کھانے کے بعد نماز، وضو اور طہارت کے مسئلے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے دینی مسائل سمجھے جاتے ہیں۔
- ہر کھانے کے بعد نیا وضو کرنا اس روایت میں لازم نہیں بتایا گیا۔
- نماز کے لیے نکلتے وقت طہارت کا معاملہ عمل سے واضح ہوا۔
- حدیث میں جو عمل نقل ہو، اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
