سنن نسائی حدیث ۱۸۵ - آگ کی پکی چیز پر آخری عمل
آگ کی پکی چیز کے بعد وضو نہ کرنے کا آخری عمل
سنن نسائی : ۱۸۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۵
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قال : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قال : كَانَ " آخِرَ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرْكُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں (آگ کی پکی ہوئی چیز کھا کر وضو کرنے اور وضو نہ کرنے) میں آخری بات آگ پر پکی ہوئی چیز کھا کر وضو نہ کرنا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں باتوں میں آخری بات یہ تھی کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو نہ کیا جائے۔ اس روایت میں ایک اہم ترتیب بیان ہوئی ہے: پہلے ایک عمل تھا، پھر آخری عمل اس کے برخلاف نقل ہوا۔ اسی لیے یہ حدیث آگ کی پکی چیز سے وضو کے مسئلے میں بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے۔ عام فہم انداز میں بات یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کو بیان کیا۔ اس روایت میں نہ کوئی لمبی تفصیل ہے اور نہ الگ مثال، بلکہ اصل نکتہ یہی ہے کہ آخری بات ترک وضو تھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مسئلے میں آخری نبوی عمل جاننا اہم ہوتا ہے۔
- جابر رضی اللہ عنہ نے وضو سے متعلق آخری بات واضح کی۔
- حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اور بعد کے عمل میں فرق تھا۔
- دینی مسائل میں صحابہ کرام کی نقل معتبر رہنمائی دیتی ہے۔
