سنن نسائی حدیث ۱۸۳ - جنابت میں صبح اور روزہ
جنابت، روزہ اور بھنا گوشت کے بعد وضو
سنن نسائی : ۱۸۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قال : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَحَدَّثَتْنِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ ثُمَّ يَصُومُ " . وَحَدَّثَنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ ، أَنَّهَا " قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " .
سلیمان بن یسار روایت:
میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احتلام سے نہیں (بلکہ جماع سے) صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے، (محمد بن یوسف کہتے ہیں:) اور ہم سے سلیمان بن یسار نے اس حدیث کے ساتھ (یہ بھی) بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنا ہوا پہلو (گوشت کا ٹکڑا) پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے دو باتیں نقل ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی احتلام کے بغیر جنابت کی حالت میں صبح کرتے، پھر روزہ رکھتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھنا ہوا پہلو یعنی گوشت کا ٹکڑا پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ اس روایت میں روزہ، غسل اور کھانے کے بعد وضو کے مسئلے کا ذکر آتا ہے۔ عام آدمی کے لیے سبق یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کو الگ الگ سمجھنا چاہیے، ایک بات جنابت اور روزے سے متعلق ہے اور دوسری بھنے گوشت کے بعد وضو نہ کرنے سے متعلق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں آئے ہوئے الگ الگ مسائل کو الگ سمجھنا چاہیے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عمل دینی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔
- بھنا ہوا گوشت کھانے کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے اس روایت میں وضو نہیں کیا۔
- روزہ اور طہارت کے مسائل میں حدیث کے الفاظ پر دھیان دینا چاہیے۔
