سنن نسائی حدیث ۱۹۱ - جماع کے بعد غسل واجب

جماع کے بعد غسل واجب ہونے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد، اس (عورت) کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہو جاتا ہے“ ۱؎۔

سنن نسائی حدیث ۱۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کے چاروں شاخوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ یہ روایت غسل واجب ہونے کے مسئلے سے متعلق ہے۔ اس میں الفاظ مختصر ہیں، مگر حکم صاف بیان ہوا ہے۔ اس حدیث کو لوگ عموماً جماع کے بعد غسل، غسل کب واجب ہوتا ہے، اور طہارت کے شرعی مسائل کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔ چونکہ روایت کا موضوع نجی ازدواجی معاملہ ہے، اس لیے اسے باادب انداز میں سمجھنا چاہیے۔ حدیث میں اصل توجہ غسل کے واجب ہونے پر ہے، نہ کہ کسی اضافی تفصیل پر۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ازدواجی تعلق کے بعد غسل واجب ہونے کا حکم اس روایت میں آیا ہے۔
  • طہارت کے مسائل پوچھنے اور سیکھنے میں شرم رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔
  • حدیث کے مختصر الفاظ بھی واضح دینی حکم دے سکتے ہیں۔
  • نجی مسائل کو باادب اور صاف انداز میں بیان کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں