سنن نسائی حدیث ۱۹۹ - پانی پانی سے ہے
پانی پانی سے ہے: غسل واجب ہونے کی حدیث
سنن نسائی : ۱۹۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۹
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ سُعَادٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " .
ابوایوب روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے“ یعنی خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پانی سے ہے۔ ترجمے میں اس کا مطلب یہ بتایا گیا ہے کہ خواب میں منی خارج ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے۔ یہ جملہ مختصر ہے مگر طہارت کے مسئلے میں اہم ہے۔ یہاں پانی سے مراد غسل کا پانی اور منی کے خروج کا تعلق بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ ترجمے میں وضاحت آئی ہے۔ لوگ اس حدیث کو پانی پانی سے ہے، احتلام پر غسل، اور منی نکلنے پر غسل کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ غسل کے حکم کو منی کے خروج سے جوڑا گیا ہے، خاص طور پر خواب کے مسئلے میں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خواب میں منی خارج ہونے پر غسل کا حکم بیان ہوا ہے۔
- مختصر حدیث بھی طہارت کا واضح مسئلہ بتا سکتی ہے۔
- غسل کے حکم میں منی کے خروج کا ذکر اہم ہے۔
- دینی مسائل سمجھتے وقت ترجمے کی وضاحت بھی مدد دیتی ہے۔
