سنن نسائی حدیث ۱۹۲ - غسل واجب اور سند کی وضاحت
غسل واجب ہونے کی روایت اور نسائی کی وضاحت
سنن نسائی : ۱۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۲
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ الْجَوْزَجَانِيُّ ، قال : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قال : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، قال : حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ثُمَّ اجْتَهَدَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : هَذَا خَطَأٌ ، وَالصَّوَابُ أَشْعَثُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَغَيْرُهُ ، كَمَا رَوَاهُ خَالِدٌ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہو گیا“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا غلط ہے، صحیح یہ ہے کہ اشعث نے اسے بواسطہ حسن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، نیز یہ حدیث بواسطہ شعبہ نضر بن شمیل وغیرہ سے بھی مروی ہے جیسا کہ اسے خالد نے روایت کی ہے، یعنی: بطریق «قتادة عن الحسن، عن أبي رافع، عن أبي هريرة»۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون نقل ہوا ہے کہ جب مرد عورت کی چاروں شاخوں کے بیچ بیٹھے، پھر کوشش کرے، تو غسل واجب ہو گیا۔ اس کے بعد امام نسائی رحمہ اللہ کی ایک علمی وضاحت بھی ذکر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اشعث کا ابن سیرین کے طریق سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا غلط ہے، اور صحیح طریق حسن کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک ہے۔ اس روایت میں دو باتیں سامنے آتی ہیں: ایک غسل واجب ہونے کا حکم، دوسری حدیث کی سند کی جانچ۔ عام قاری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ محدثین صرف متن ہی نہیں، روایت کے راستے کو بھی دیکھتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل واجب ہونے کا حکم اس روایت میں دوبارہ نقل ہوا ہے۔
- محدثین سند کی غلطی اور درست طریق کو الگ کرتے تھے۔
- دینی بات نقل کرتے وقت روایت کے طریق کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- نجی مسائل کے احکام کو ادب کے ساتھ سیکھنا چاہیے۔
