سنن نسائی حدیث ۱۹۴ - مذی پر وضو اور ذکر دھونا
مذی پر وضو، منی پر غسل: آسان حدیثی رہنمائی
سنن نسائی : ۱۹۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۴
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَائِدَةَ ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَمِيلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قال : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ فَتَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ ، وَإِذَا رَأَيْتَ فَضْخَ الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ " .
علی روایت:
میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے ۱؎، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مذی دیکھو تو وضو کر لو، اور اپنا ذکر دھو لو، اور جب پانی (منی) کو کودتے دیکھو، تو غسل کرو“ ۲؎۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسے آدمی تھے جنہیں کثرت سے مذی آتی تھی۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مذی دیکھو تو وضو کر لو اور اپنا ذکر دھو لو۔ اور جب پانی یعنی منی کو کودتے ہوئے دیکھو تو غسل کرو۔ یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کو دوسرے لفظی انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں مسئلہ بہت آسان کر دیا گیا ہے: مذی کا حکم وضو اور دھونا ہے، جبکہ منی کا حکم غسل ہے۔ اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ انسان طہارت کے معاملے میں بے جا الجھن میں نہ رہے، بلکہ جس حالت کا ذکر ہو اسی کے مطابق عمل کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مذی آنے پر وضو کرنے کا حکم اس حدیث میں آیا ہے۔
- ذکر دھونا بھی اس حکم کا حصہ ہے۔
- منی نکلنے پر غسل کرنا بتایا گیا ہے۔
- طہارت کے مسئلے میں نبی صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا گیا اور جواب ملا۔
