سنن نسائی حدیث ۱۸۷۴ - نابالغ بچوں کی وفات پر رحمت
تین نابالغ بچوں کی وفات پر اللہ کی رحمت
سنن نسائی : ۱۸۷۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۷۴
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا“۔
سنن نسائی حدیث ۱۸۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے تین نابالغ بچے وفات پا جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا۔ اس روایت میں خاص طور پر نابالغ بچوں کا ذکر ہے، یعنی وہ بچے جو ابھی گناہ کی عمر کو نہیں پہنچے۔ حدیث کا لہجہ غم زدہ والدین کے لیے امید اور تسلی کا ہے۔ اولاد کی جدائی بہت سخت ہوتی ہے، مگر اس حدیث میں بتایا گیا کہ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ والدین اپنے غم میں اللہ سے امید رکھیں اور صبر کا راستہ اختیار کریں۔ حدیث میں جو الفاظ آئے ہیں، انہی کے مطابق جنت میں داخلے کو اللہ کی رحمت کے فضل سے بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نابالغ بچوں کی وفات والدین کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے۔
- اللہ کی رحمت غم زدہ مسلمان کے لیے امید کا ذریعہ ہے۔
- حدیث میں تین نابالغ بچوں کی وفات پر جنت کی بشارت آئی ہے۔
- مصیبت میں اللہ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔
