سنن نسائی حدیث ۱۸۷۵ - والدین کی بخشش کی بشارت

تین نابالغ اولاد کی وفات پر والدین کے لیے بخشش

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۸۷۵

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : حَدِّثْنِي ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ بَيْنَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُمَا بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " .

صعصعہ بن معاویہ روایت:

میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا: اچھا سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے“۔

سنن نسائی حدیث ۱۸۷۵ کا خلاصہ

اس روایت میں ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ جس مسلمان ماں باپ کی تین نابالغ اولاد وفات پا جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے۔ اس حدیث میں والدین دونوں کا ذکر ہے، اس لیے یہ غم صرف ماں یا صرف باپ کا نہیں بلکہ دونوں کا مشترک صدمہ ہے۔ اولاد کی جدائی دل کو توڑ دیتی ہے، مگر یہاں اللہ کی رحمت کے فضل سے بخشش کی خوشخبری دی گئی ہے۔ حدیث میں نابالغ اولاد کا ذکر ہے، اس لیے بات کو اسی دائرے میں سمجھنا چاہیے۔ اس کا مقصد غم زدہ والدین کو صبر، امید اور اللہ کی طرف رجوع کی طرف لانا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اولاد کی وفات ماں باپ دونوں کے لیے سخت آزمائش ہے۔
  • حدیث میں تین نابالغ بچوں پر والدین کی بخشش کا ذکر آیا ہے۔
  • اللہ کی رحمت غم کے وقت بڑی تسلی ہے۔
  • مصیبت میں صبر اور امید دونوں ضروری ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں