سنن نسائی حدیث ۱۹۰۳ - عباس رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن ابی کی قمیص
عباس رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن ابی کی قمیص پہنائی گئی
سنن نسائی : ۱۹۰۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۰۳
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّهْرِيُّ الْبَصْرِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ : " وَكَانَ الْعَبَّاسُ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَبَتِ الْأَنْصَارُ ثَوْبًا يَكْسُونَهُ فَلَمْ يَجِدُوا قَمِيصًا يَصْلُحُ عَلَيْهِ إِلَّا قَمِيصَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَكَسَوْهُ إِيَّاهُ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۰۳ کا خلاصہ
اس روایت میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینہ میں تھے۔ انصار نے ان کے لیے ایسا کپڑا تلاش کیا جو ان پر ٹھیک آئے، مگر عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص مناسب نہ ملی، اس لیے وہی انہیں پہنا دی گئی۔ یہ حدیث ایک سادہ واقعہ بیان کرتی ہے۔ اس میں کفن، قمیص اور ضرورت کے وقت موجود کپڑے کے استعمال کا پہلو سامنے آتا ہے۔ متن میں صرف یہی بات ہے کہ کپڑا تلاش کیا گیا اور جو قمیص فٹ آتی تھی وہ پہنا دی گئی۔ اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی دعویٰ نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ روایت 1902 کے واقعے سے بھی مناسبت رکھتی ہے، جہاں قمیص کا ذکر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے وقت موجود مناسب کپڑا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- صحابہ کرام میت اور لباس کے معاملے میں عملی ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔
- حدیث کے واقعے کو اصل الفاظ کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
