سنن نسائی حدیث ۱۹۱۶ - جنازہ دیکھنے والا کب تک کھڑا رہے
جنازہ دیکھ کر کب تک کھڑے رہیں؟
سنن نسائی : ۱۹۱۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۱۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْجَنَازَةَ فَلَمْ يَكُنْ مَاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى تُخَلِّفَهُ أَوْ تُوضَعَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تُخَلِّفَهُ " .
عامر بن ربیعہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے (اور) اس کے ساتھ جا نہ رہا ہو تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ (جنازہ) اس سے آگے نکل جائے یا آگے نکلنے سے پہلے رکھ دیا جائے“۔
سنن نسائی حدیث ۱۹۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے اور وہ اس کے ساتھ چل نہیں رہا، تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ جنازہ اس سے آگے نکل جائے، یا آگے نکلنے سے پہلے ہی رکھ دیا جائے۔ اس حدیث میں ایک خاص صورت بیان ہوئی ہے: آدمی جنازہ دیکھتا ہے مگر اس کے ساتھ نہیں جا رہا۔ ایسے شخص کے لیے کھڑے رہنے کی مدت بھی متن میں آ گئی ہے۔ اس لیے “جنازہ دیکھ کر کھڑا ہونا” کے ساتھ “کب تک کھڑا رہنا” بھی اس روایت کا اہم سوال ہے۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے: جنازے کے گزرتے وقت ادب کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو جنازے کے ساتھ نہیں جا رہا، وہ بھی کھڑا رہے۔
- کھڑے رہنے کی حد جنازہ آگے نکلنے یا رکھے جانے تک بتائی گئی ہے۔
- حدیث جنازے کے سامنے ادب کا انداز سکھاتی ہے۔
