سنن نسائی حدیث ۱۹۹۷ - جنازہ میں شرکت کا دو قیراط اجر

جنازہ میں شرکت کا اجر: دو بڑے پہاڑوں جیسا

سنن نسائیحدیث نمبر ۱۹۹۷

أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ ، قال : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ شَهِدَ جَنَازَةً حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی جنازے میں شریک رہے یہاں تک کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے، تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا، اور جو دفنائے جانے تک رہے تو اسے دو قیراط ملے گا“، پوچھا گیا: اللہ کے رسول! یہ دو قیراط کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۱۹۹۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جنازہ میں شریک رہنے کے اجر کو بہت واضح انداز میں بیان فرمایا۔ جو شخص جنازے میں اس وقت تک شریک رہے کہ اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے، اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے۔ اور جو دفن ہونے تک ساتھ رہے، اسے دو قیراط ملتے ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ دو قیراط کیا ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے برابر۔ اس روایت میں “جنازہ میں شرکت کی فضیلت” اور “دو قیراط اجر” صاف طور پر آئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف نماز پڑھ کر لوٹنے اور دفن تک ساتھ رہنے کے اجر میں فرق ہے۔ یہ حدیث میت کے ساتھ احترام اور دعا کے جذبے کو بڑھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز جنازہ تک شریک رہنے پر ایک قیراط اجر ہے۔
  • دفن تک رہنے پر دو قیراط اجر بیان ہوا ہے۔
  • دو قیراط کی وضاحت دو بڑے پہاڑوں کے برابر کی گئی۔
  • جنازہ کے ساتھ رہنا میت کے حق میں خیر کا عمل ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں