سنن نسائی حدیث ۲۰۲۶ - دفن کے بعد قبر پر جنازہ
دفن کے بعد قبر پر جنازہ پڑھنے کی روایت
سنن نسائی : ۲۰۲۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۲۶
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قال الشَّيْبَانِيُّ , أَنْبَأَنَا عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قال : أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرَّ بِقَبْرٍ مُنْتَبِذٍ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ " , قِيلَ : مَنْ حَدَّثَكَ ، قال : ابْنُ عَبَّاسٍ .
عامر بن شراحیل شعبی روایت:
مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اپنے پیچھے اپنے اصحاب کی صف بندی کی، پوچھا گیا: آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک ایسے شخص نے خبر دی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرے، پھر اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اپنے صحابہ کو اپنے پیچھے صف میں کھڑا کیا۔ جب پوچھا گیا کہ یہ بات آپ سے کس نے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ ہے۔ حدیث کے الفاظ میں امامت، صحابہ کی صف بندی اور الگ قبر کا ذکر ہے۔ اس لیے اسے قبر پر جنازہ، دفن کے بعد جنازہ، اور صف بندی نماز جنازہ جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ متن مختصر ہے، اس لیے بیان بھی اسی حد تک رہنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔
- صحابہ کرام کو آپ کے پیچھے صف میں کھڑا کیا گیا۔
- روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا نام بطور راوی آیا ہے۔
- حدیث کو اس کے مختصر متن کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
