سنن نسائی حدیث ۲۰۲۷ - دفن شدہ عورت کی قبر پر جنازہ
دفن کے بعد عورت کی قبر پر نماز جنازہ
سنن نسائی : ۲۰۲۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۰۲۷
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قال : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ أَبُو أُسَامَةَ ، قال : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ امْرَأَةٍ بَعْدَ مَا دُفِنَتْ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر اسے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔
سنن نسائی حدیث ۲۰۲۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی، جب کہ اسے دفن کیا جا چکا تھا۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر موضوع صاف ہے: دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ۔ اس میں عورت کے نام، وفات کے وقت یا دیگر تفصیل کا ذکر نہیں، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک ہونی چاہیے۔ اس حدیث کو عام طور پر قبر پر جنازہ، دفن کے بعد نماز جنازہ، اور عورت کی قبر پر جنازہ جیسے الفاظ سے تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ روایت اسی باب کی دوسری روایات کے ساتھ مل کر سمجھنے میں آسان ہوتی ہے، جہاں نئی قبر، الگ قبر اور صف بندی کا ذکر آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دفن کے بعد ایک عورت کی قبر پر نماز جنازہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے نامعلوم تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
- قبر پر جنازہ کے موضوع میں یہ روایت خاص طور پر متعلق ہے۔
- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو روایت کے الفاظ کے مطابق بیان کرنا چاہیے۔
